ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرمیشور کووزیراعلیٰ بنانے جناردھن پجاری کی وکالت

پرمیشور کووزیراعلیٰ بنانے جناردھن پجاری کی وکالت

Fri, 29 Sep 2017 23:06:11    S.O. News Service

بنگلورو،29؍ستمبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) کانگریس پارٹی میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار کے معاملے پر دوبارہ کشمکش کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایک طرف جہاں سدرامیا اپنے آپ کو اگلا وزیر اعلیٰ قرار دے رہے ہیں وہیں پارٹی کے چند سینئر قائدین کے ذریعہ مخالفت کا آغا ز ہوچکا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیاپر ہمیشہ برستے رہنے والے سابق مرکزی وزیر جناردھن پجاری نے ڈاکٹر جی پرمیشور کو اگلا وزیر اعلیٰ بنانے کی وکالت کی ہے۔ منگلور میں انہوں نے بتایاکہ پرمیشور کو صدر جمہوریہ کا عہدہ بھی دیا جانا چاہئے۔ پرمیشور کی موجودگی میں انہوں نے وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے بتایاکہ کئی مرتبہ انہوں نے سدرامیا سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے پرمیشور کو وزیر اعلیٰ بنانے کی تاکید کی تھی۔ میسور کے ایک پروگرام میں سدرامیا نے بتایاتھاکہ اگلے انتخابات ان کی قیادت میں ہی ہوں گے اور اگلے وزیر اعلیٰ وہ خود بنیں گے،اور اگلے پانچ برسوں تک دسہرہ تقریبات کا انعقاد کریں گے۔ جس پر پرمیشور نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نکتہ چینی کی تھی اور بتایا تھاکہ کانگریس پارٹی کی الگ پالیسی ہے، یہاں پر انتخابات کے بعد لیجسلیچر پارٹی اجلاس میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوتا ہے۔ جس پر رکن پارلیمان دھروا نارائن نے پرمیشور کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا تھاکہ سدرامیا ہی اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ جبکہ وزیر برائے شہری رسد وخوراک یوٹی قادر نے بتایاکہ اگلے انتخابات سدرامیا کی قیادت میں ہی ہوں گے اور پارٹی اقتدار حاصل کرے گی ،جس کے بعد سدرامیا ہی اگلے وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ ایک طرف کابینہ میں موجود وزراء سدرامیا کو اگلا وزیر اعلیٰ بنانے کی وکالت کررہے ہیں تو وہیں کابینہ سے باہر موجود قائدین اعلیٰ کمان پر فیصلہ چھوڑنے کے بیانات دے رہے ہیں۔ اب تک کانگریس پارٹی میں انتخابات سے قبل وزیر اعلیٰ کے امیدوار کااعلان نہیں ہوا ہے،اور کے پی سی سی صدر ہی اگلا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ اسی طرح وزارت اعلیٰ پر برقرار رہتے ہوئے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے پر انہی کو وزیراعلیٰ برقرار رکھاجاتا ہے۔ایک طرف جہاں کانگریس پارٹی نے انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں وہیں اگلے وزیراعلیٰ کے امیدوار کو لے کر داخلی انتشار بھی بڑھنے لگا ہے۔ اس دوران ہی گھر گھر کانگریس مہم کے ذریعہ ریاستی حکومت کی چار سالہ کارکردگی اور مرکزی کی ناکامیوں سے متعلق عوام کو بیدار کرنے کی کارروائی بھی شروع ہوچکی ہے۔ 


Share: